سورۂ شعراء کے ساتھ مناسبت:
سورۂ نمل کی اپنے سے ماقبل سورت’’شعراء ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں کی ابتداء میں قرآنِ پاک کا وصف بیان ہوا ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ شعراء کی طرح سورۂ نمل میں بھی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان ہوئے البتہ سورۂ نمل میں مزید حضرت سلیمان اور حضرت داؤد عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا تو گویا کہ سورۂ نمل سورۂ شعراء کا تتمہ ہے۔تیسری مناسبت یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کر کے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر تسلی دی گئی ہے۔
سورۂ نمل کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ نمل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( مدارک، سورۃ النمل، ص۸۳۷)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس میں 7 رکوع اور 93 آیتیں ہیں ۔
’’نمل ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
نَمْل کا معنی ہے چیونٹی،اور اس سورت کی آیت نمبر 18میں ایک چیونٹی کا ایک واقعہ بیان کیاگیا ہے اس مناسبت سے ا س سورت کا نام ’’سورۂ نمل‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ نمل کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں وہ اُمور بیان کئے گئے ہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص اللہ تعالٰی پر ایمان لے آئے، اسے اپنا رب اور اپنا واحد معبود مان لے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر ونشر کی تصدیق کرے اور قرآن پاک کو اللہ تعالٰی کا کلام مانے،مزید اس میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں ۔
(1) …اس کی ابتداء میں قرآن پاک کے اوصاف بیان کئے گئے،نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کوجنت کی بشارت دی گئی اور آخرت کا انکار کرنے والوں کو آخرت میں سب سے بڑے نقصان اور برے عذاب کی وعید سنائی گئی۔
(2) …یہ پانچ واقعات بیان کئے گئے ہیں ۔ (1) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ۔(2)حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورچیونٹی کا واقعہ۔(3)حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ملکۂ بلقیس کا واقعہ۔(4) حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (5) حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔
(3) …اللہ تعالٰی کے وجود اور ا س کی وحدانیت پر دلائل بیان کئے گئے کہ اس نے زمین و آسمان اور بحر وبَر کو پیدا کیا، زمین کے خزانوں سے فائدہ اٹھانے کا انسان کو اِلہام کیا،خشکی اور تری کی اندھیریوں میں انسان کو راہ دکھائی اور اسے کثیر رزق عطا کیا۔یہ بتایاگیا کہ قیامت کی ہَولناکیاں اچانک آ جائیں گی، نیز اللہ تعالٰی کے علم کی وسعت اور دن اور رات کے آنے جانے سے اللہ تعالٰی کی وحدانِیّت پر اِستدلال کیا گیا۔
(4) … مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر و نشر کا انکار کرنے والے مشرکین کا رد کیا گیا۔
(5) …قیامت کی چند علامات بیان کی گئی جیسے دَآبَّۃُ الْاَرْضْ کا نکلنا،پہاڑوں کا اُڑنا اور صُور میں پھونک ماری جانا وغیرہ۔
(6) …قیامت کے دن لوگوں کی دو اَقسام اور ان کی جزاء بیان کی گئیں۔