سورۂ قَصص کے ساتھ مناسبت:
سورۂ عنکبوت کی اپنے سے ماقبل سورت ’’قصص‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قصص میں عاجزی کرنے والے متقی لوگوں کا اچھا انجام بیان کیا گیا اور سورۂ عنکبوت میں نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کا اچھا انجام بیان ہو اہے۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قصص میں حشر کا انکار کرنے والوں کے قول کا رد کیاگیا اور سورۂ عنکبوت میں بھی حشر کا انکار کرنے والوں کا رد کیا گیا ہے۔تیسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قصص میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے اور سورۂ عنکبوت میں مسلمانوں کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔
سورۂ عنکبوت کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ عنکبوت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے ۔( خازن، تفسیر سورۃ العنکبوت،۳ / ۴۴۴۔)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس سورت میں 7رکوع اور69آیتیں ہیں ۔
’’عنکبوت ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
عربی میں مکڑی کو عنکبوت کہتے ہیں اور اس سور ت کی آیت نمبر41 میں الله عَزَّوَجَلَّ نے شرک کے بطلان پر عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال دی ہے اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورئہ عنکبوت ‘‘رکھاگیاہے ۔
سورۂ عنکبوت کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں توحید ورسالت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر دلائل دئیے گئے ہیں اور مصیبت و آزمائش وغیرہ ہر حال میں ایمان پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتدائی آیات میں بتایا گیا کہ دنیا میں مسلمانوں کو سختیوں اور مصیبتوں کے ذریعے آزمایا جائے گا اوران سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا تھا۔
(2)…اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے کا فائدہ اور ایمان قبول کر کے نیک اعمال کرنے کا صلہ بیان کیا گیا۔
(3)…والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی حد بیان کی گئی۔
(4)…یہ بتایا گیا کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش مسلمانوں کے مقابلے میں انتہائی سخت ہوتی ہے اوراسی سلسلے میں الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں کے سامنے حضرت نوح،حضرت ابراہیم، حضرت لوط،حضرت شعیب،حضرت ہود،حضرت صالح، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے تاکہ یہ جان جائیں کہ الله تعالیٰ نے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد فرمائی اور انہیں جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا۔
(5)…انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کرنے کے دوران الله تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیّت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دلائل دئیے گئے ۔
(6)…اہلِ کتاب اور مشرکین کے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے۔
(7)…کفار کے ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی ہدایت دی گئی اور ان کے لئے اجر و ثواب بیان کیا گیا۔