سورۂ احقاف کے ساتھ مناسبت:
سورۂ محمد کی اپنے سے ماقبل سورت ’’احقاف‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ احقاف کی آخری آیت کے اس حصے ’’فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘ کا سورۂ محمد کی پہلی آیت کے ساتھ ایسا مضبوط ربط ہے کہ ان دونوں آیتوں کی تلاوت کے دورا ن اگر بِسْمِ اللہ نہ پڑھی جائے تو ایسے لگے گا جیسے یہ ایک ہی آیت ہے۔( تناسق الدّرر، سورۃ القتال، ص۱۱۷)
سورۂ محمد کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ محمد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 4 رکوع اور 38 آیتیں ہیں ۔
’’محمد ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کی دوسری آیت میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اسمِ گرامی’’محمد‘‘ ذکر کیا گیا ہے اس مناسبت سے ا سے’’سورۂ محمد‘‘ کہتے ہیں ،نیز اس سورت کا ایک نام ’’سورۂ قِتال‘‘ بھی ہے اورا س کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں کفار کے ساتھ جہاد کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔
سورۂ محمد کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں کفار کے ساتھ جہاد کرنے کے احکام اور جہاد کرنے کاثواب بیان کیاگیا ہے،اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں بیان کیا گیا کہ جو کافر دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردئیے جبکہ وہ لوگ جواللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والی کتاب قرآنِ مجید پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیاں مٹا دیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مسلمانوں نے حق کی پیروی کی۔
(2)…کفار کے ساتھ جنگ کے دوران انہیں قتل کرنے اورکافر قیدیوں کے بارے میں حکم دیا گیا ،جنگ کے دوران شہید ہونے والے مجاہدوں کا ثواب بیان کیاگیا اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جہاد کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنے کی بشارت دی۔
(3)…کافروں کی رسوائی کی وجہ بیان کی گئی کہ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو ناپسند کرتے ہیں ا س لئے رسوا ہوئے ہیں ۔
(4)…کفار ِمکہ کے سامنے سابقہ لوگوں کا انجام بیان کر کے انہیں بتایاگیا کہ ان کا انجام بھی انہی جیسا ہو سکتا ہے۔
(5)…پرہیز گار مسلمانوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف بیان کئے گئے ۔
(6)…منافقوں کی صفات بیان کی گئیں اور انہیں بتایاگیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے چھپے ہوئے بغض اورکینے کوظاہر فرما دے گا۔
(7)…اس سورت کے آخر میں دنیوی زندگی کی حقیقت اور بخل کرنے کی مذمت بیان کی گئی ۔