سورۂ محمد کے ساتھ مناسبت:
سورۂ فتح کی اپنے سے ما قبل سورت ’’سورۂ محمد‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ محمدمیں جہاد کی کیفیت بتائی گئی کہ جب کفار سے معرکہ آرائی ہو تو انہیں قتل کیاجائے اور جو قتل ہونے سے بچ جائیں انہیں قید کر لیا جائے اور سورۂ فتح میں اس کیفیت کا نتیجہ اور ثمرہ بیان کیا گیا کہ اس طرح کرنے سے مدد اور فتح حاصل ہو گی ۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں مسلمانوں ،مشرکوں اور منافقوں کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔
سورۂ فتح کاتعارف
مقامِ نزول:
سورۂ فتح مدینۂ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس میں 4رکوع اور 29آیتیں ہیں ۔
’’ فتح ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورتِ مبارکہ کی پہلی آیت میں حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو روشن فتح کی بشارت دی گئی ، اس مناسبت سے اس سورئہ مبارکہ کانام ’’سورۂ فتح‘‘ ہے ۔
سورۂ فتح کی فضیلت:
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک سفر کے دوران میں نے حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا ،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ پیاری ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے،پھر آپ نے(اس سورت کی) یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘ ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ الفتح، ۳ / ۴۰۶، الحدیث: ۵۰۱۲)
سورۂ فتح کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں صلحِ حدیبیہ کا واقعہ بیان کیاگیاہے اور مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ یہ صلح مکۂ مکرمہ کی فتح کا پیش خیمہ ہے اور اب مسلمانوں کو کفار پر مکمل غلبہ حاصل ہونے کا وقت قریب ہے اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں فتحِ مکہ کی بشارت دی گئی اور یہ بتایا گیا کہ اس مہم سے مسلمانوں کوعظیم کامیابی اور جنت حاصل ہو گی اور یہ مہم ان منافقوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی لعنت کا سبب بنی جنہوں نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں یہ بد گمانی کی کہ وہ مسلمانوں کو موت کے منہ میں لے جارہے ہیں اور اب ان میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر واپس نہیں آئے گا۔
(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف بیان کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کوحاضر و ناظر ، خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اورحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم وتوقیر کریں ۔
(3)…منافقوں کی صفات بیان کی گئیں اور یہ بتایا گیا کہ جو مسلمان اندھے ،لنگڑے اور بیمار ہیں وہ اپنے اس عذر کی وجہ سے جہاد میں شامل نہ ہو سکیں تو ان پر کوئی حرج نہیں ،وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اللہ تعالیٰ انہیں جنت عطا فرما دے گا۔
(4)…حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اور مسلمانوں سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا گیا۔
(5)…حدیبیہ کے مقام پر کفارِ مکہ سے جنگ کی بجائے صلح ہونے میں مسلمانوں پر جو اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا وہ بیان کیا گیا اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خواب کی تصدیق اور اس کی تعبیر میں تاخیر کی حکمت بیان کی گئی ۔
(6)…اس سورت کے آخر میں بتایاگیا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہدایت اور دین ِحق کے ساتھ بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے سب دینوں پر غالب کردے اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام آپس میں نرم دل جبکہ کافروں پر سخت ہیں ،نیز نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں سے مغفرت اور عظیم ثواب کا وعدہ فرمایا گیا۔