سورۂ فتح کے ساتھ مناسبت:
سورۂ حجرات کی اپنے سے ما قبل سورت ’’فتح‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فتح میں کفار کے ساتھ جہاد کرنے کے بارے میں بیان ہوا اور سورۂ حجرات میں باغیوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بارے میں بیان ہوا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان اور مقام و مرتبہ بیان کیاگیا ہے۔
سورۂ حجرات کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ حجرات مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الحجرات، ۴ / ۱۶۳)
رکوع اورآیات کی تعداد:
۱ س سورت میں 2 رکوع اور18آیتیں ہیں ۔
’’حجرات ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
حجرات کا معنی’’ حجرے اور کمرے‘‘ ہیں ،اور اس سورت کی آیت نمبر4میں حجرات کالفظ ہے اسی مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورۃُ الْحجرات‘‘ ہے۔
سورۂ حجرات کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس سورت میں متعدد اُمور میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی گئی ہے اور اس سور ت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ کے خصوصی آداب بیان کئے گئے ہیں اور جو لوگ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں انہیں بخشش اور بڑے ثواب کی بشارت دی گئی۔
(2)…مسلمانوں کومعاشرتی آداب بتائے گئے اور ان کی اَخلاقی تربیت کی گئی کہ تحقیق کئے بغیر کوئی خبر قبول نہ کریں ، کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی نہ کریں ،کسی کی غیبت نہ کریں ،کسی کا نام نہ بگاڑیں اور کسی کا مذاق نہ اُڑائیں ۔
(3)… یہ حکم دیاگیا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دی جائے اور اگر وہ صلح نہ کریں تو ان میں سے جو گروہ باطل پر ہو تو اس کے ساتھ جنگ کی جائے یہاں تک کہ وہ راہ ِراست پر گامزن ہو جائے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں اپنے ایمان کا احسان جتانے والوں کی سرزَنِش کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ کسی کا اسلام قبول کرنا اللہ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کوئی احسان نہیں ہے نیز حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے پھر وہ دین کے کسی کام میں شک نہ کرے اور اپنی جان اور مال سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے۔