سورۂ نجم کے ساتھ مناسبت:
سورۂ قمر کی اپنے سے ماقبل سورت ’’نجم‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورہ ٔ نجم کی طرح اس سورت میں بھی اپنے رسولوں کو جھٹلانے والی سابقہ امتوں کے احوال اور ان کاانجام بیان کیا گیا ہے۔( تناسق الدرر، سورۃ القمر، ص۱۲۰ملخصاً)
سورۂ قمر کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ قمر اس آیت ’’سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ‘‘ کے علاوہ مکیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ القمر، ۴ / ۲۰۱، جلالین، سورۃ القمر، ص۴۴۰)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس سورت میں 3رکوع اور55 آیتیں ہیں ۔
’’قَمر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
عربی میں چاند کو قمر کہتے ہیں ۔اِس سورت کی پہلی آیت میں چاند کے پھٹ جانے کا بیان کیاگیا ہے ،اس مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ قمر‘‘ رکھا گیا ہے۔
سورۂ قمر کے فضائل:
(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سورۂ اِقْتَرَبَ کی تلاوت کرنے والے (کا چہرہ قیامت کے دن روشن ہو گا کہ اس سورت) کو تورات میں ’’ مُبَیِّضَہْ ‘‘ یعنی روشن کرنے والی پکارا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنی تلاوت کرنے والے کا چہرہ اس دن روشن کرے گی جس دن چہرے سیاہ ہوں گے۔(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۰، الحدیث: ۲۴۹۵)
(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے رات میں سورۂ سجدہ،سورۂ قمر اور سورۂ ملک کی تلاوت کی تو یہ سورتیں ،شیطان اور شرک سے اس کی حفاظت کریں گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے درجات میں بلندی عطا کرے گا۔( کنز العمال، کتاب الاذکار، قسم الاقوال، الباب السابع، الفصل الاول، ۱ / ۲۶۹، الجزء الاول، الحدیث: ۲۴۱۰)
سورۂ قمر کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت ،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور قرآنِ مجید کی صداقت وغیرہ اسلام کے بنیادی عقائد کے بارے میں بیان کیا گیا ہے ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں
(1)…اس سورت کی ابتداء میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک معجزہ اور کفارِ مکہ کے طرزِ عمل کو بیان فرمایا گیا۔
(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مشرکین سے اِعراض کرنے اور انہیں قیامت قریب آنے اور اس دن انہیں پہنچنے والی سختیوں سے ڈرانے کا حکم دیاگیا۔
(3)…حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے اِختصار کے ساتھ سابقہ امتوں میں سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم،قومِ عاد،قومِ ثمود،حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور فرعون کی قوم کے حالات اور ان کا انجام بیان کیا گیا اور کفارِ قریش کو مُخاطَب کر کے ان امتوں کے انجام سے ڈرایا گیا ۔
(4)…اس سورت کے آخر میں بد بخت کفار کا حال اورسعادت مند مُتّقی لوگوں کی جزا کو بیان فرمایا گیا۔