سورۂ قمر کے ساتھ مناسبت:
سورۂ رحمٰن کی اپنے سے ما قبل سورت ’’قمر ‘‘کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قمر میں قیامت،جہنم کی ہَولْناکیوں ، مجرموں کا عذاب ،مُتَّقی مسلمانوں کا ثواب اور جنت کے اوصاف اِجمالی طور پر بیان کئے گئے اور سورۂ رحمٰن میں یہ چیزیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔
سورۂ رحمٰن کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ رحمٰن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الرحمٰن، ۴ / ۲۰۸)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس سورت میں 3رکوع اور78آیتیں ہیں ۔
’’رحمٰن ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کا نام ’’سورۂ رحمٰن ‘‘ اس لئے رکھا گیا کہ ا س کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے اَسماء ِحُسنیٰ میں سے ایک اسم ’’اَلرَّحْمٰنُ‘‘ سے کی گئی ہے۔
سورۂ رحمٰن کے فضائل:
(1)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ہر چیز کی ایک زینت ہے اور قرآن کی زینت سورۂ رحمٰن ہے۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۰، الحدیث: ۲۴۹۴)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’چند وجہ سے سورۂ رحمٰن کو قرآن کی دلہن،زینت فرمایا گیا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کاذکر ہے اور ذات و صفات پر اعتقاد ایمان کی زینت ہے۔اس سورت میں جنت کی حوروں ،ان کے حسن و جمال،ان کے زیورات کا ذکر ہے (اور) یہ چیزیں جنت کی زینت ہیں ۔اس سورت میں آیت ِمبارکہ ’’فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ‘‘ 31 جگہ ارشاد ہواا س سے سورت کی زینت زیادہ ہوگئی۔( مرأۃ المناجیح، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثالث، ۳ / ۲۸۱-۲۸۲، تحت الحدیث: ۲۰۷۴)
(2)…حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’سورۂ حدید،سورۂ واقعہ اور سورۂ رحمٰن کی تلاوت کرنے والے کو زمین و آسمان کی بادشاہت میں جنتُ الفردوس کا مکین پکارا جاتا ہے۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۰، الحدیث: ۲۴۹۶)
(3)…اس سورت کی آیات اگرچہ چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن ان کی تاثیر بہت مضبوط ہے۔مروی ہے کہ حضرت قیس بن عاصم مِنْقری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے (اسلام قبول کرنے سے پہلے) سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی: جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے میرے سامنے اس کی تلاوت کیجئے۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے سامنے سورۂ رحمٰن پڑھی تو ا س نے عرض کی:اسے دوبارہ پڑھئے،حتّٰی کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (اس کے کہنے پر) تین مرتبہ سورۂ رحمٰن کو پڑھا۔ (سورۂ رحمٰن سن کر) اس نے عرض کی :خدا کی قسم!یہ سورت بہت ہی خوبصورت ہے،اس میں بہت حلاوت ہے،اس کا نیچے والا حصہ سرسبز ہے اور اوپر والا حصہ پھل دار ہے اور یہ کسی انسان کا کلام ہی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔( تفسیر قرطبی، تفسیر سورۃ الرحمٰن، ۹ / ۱۱۳، الجزء السابع عشر)
سورۂ رحمٰن کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت اور قرآنِ مجید کے اللہ تعالیٰ کی وحی ہونے پر دلائل بیان کئے گئے ہیں ،نیز اس میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم نعمتوں جیسے قرآنِ پاک کو نازل کرنے ،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کی تعلیم دینے،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دنیا و آخرت کی تما م چیزوں کی تعلیم دینے کا ذکر فرمایا۔
(2)…اس کے بعد سورج، چاند،زمین پر اُگی ہوئی بیلوں ، درختوں ، آسمانوں ، زمینوں ،باغات میں پھلوں اور کھیتوں میں فصلوں کا ذکر فرمایا۔
(3)… حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ابلیس کی پیدائش، میٹھے اور کھاری سمندروں اور ان سے موتیوں کے نکلنے کو بیان فرمایا گیا۔
(4)…اس جہاں کے فنا ہونے اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے باقی رہنے اورتمام مخلوق کے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہونے کا ذکر فرمایا گیا۔
(5)…اس سورت کے آخر میں قیامت،جنت کی نعمتوں اور جہنم کی سختیوں اور ہَولْناکْیوں وغیرہ کا ذکر ہے۔