سورۂ حدید کے ساتھ مناسبت:
سورۂ مجا دلہ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’حدید‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ حدید میں اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم اور جلیل صفات ذکر کی گئیں کہ وہ ظاہر ہے،باطن ہے،اور اس کا علم ایسا محیط ہے کہ زمین کے اندر موجود اور ا س سے نکلنے والی ہر چیز کو جانتا ہے اور اسے بھی جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو آسمان میں چڑھتا ہے اور اس کی مخلوق جہاں کہیں ہو وہ اس کے ساتھ ہے،اور سورۂ مجادلہ کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کے ان اوصاف پر دلالت کرنے والا واقعہ بیان کیا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں مناجات کرنے والی عورت کی بات کو سن لیا۔
سورۂ مجادلہ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ مجادلہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، سورۃ المجادلۃ، ۴ / ۲۳۵)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 3رکوع اور 22 آیتیں ہیں ۔
’’مُجادلہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
بحث اور تکرار کرنے والی عورت کو عربی میں ’’مُجَادِلَہْ‘‘کہتے ہیں اور اس سورت کی پہلی آیت میں حضرت خولہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ظِہار کے مسئلے میں ہونے والی بحث کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس کا نام’’سورۂ مجادلہ‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ مجادلہ کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں ظہار اور اس کے کفارے سے متعلق اور چند دیگر چیزوں کے بارے میں شرعی احکام بیان کئے گئے ہیں ۔مزید ا س سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں۔
(1)…اس سورت کی ابتداء میں حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ظہار کے مسئلے میں ہونے والی بحث اور ظہار سے متعلق چند اَحکام بیان کئے گئے ۔
(2)…مجلس کے چند آداب بیان کئے گئے اور مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے احکامات پر عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے،نیز علمائِ دین کی تعریف کی گئی اور ان کے مرتبہ و مقام کو واضح کیاگیا ۔
(3)…ان منافقین کی سرزَنش کی گئی جو یہودیوں سے محبت کرتے تھے ،مسلمانوں کے راز ان تک پہنچاتے تھے ،جھوٹی قسمیں کھاتے تھے، اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عداوت رکھتے اور ان کے احکامات کی مخالفت کرتے تھے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں بیان کیا گیا کہ مسلمان کافروں سے محبت نہ رکھیں اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے،بھائی اور خاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں ۔