سورۂ حشر کے ساتھ مناسبت:
سورۂ مُمْتَحِنَہْ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’حشر ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اہل ِکتاب اور کفار و مشرکین کے ساتھ تعلقات کیسے ہونے چاہئیں ۔
سورۂ مُمْتَحِنَہْ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ مُمْتَحِنَہْ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الممتحنۃ، ۴ / ۲۵۵)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع اور 13آیتیں ہیں ۔
’’مُمْتَحِنَہْ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
ایک قول یہ ہے کہ اس سورت کا نام ’’مُمْتَحِنَہْ‘‘ ہے،اس صورت میں اس کامعنی ہوگاعورتوں کاامتحان لینے والی سورت۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا نام ’’مُمْتَحَنَہْ‘‘ ہے ،یعنی ا س سورت میں ان عورتوں کا ذکر ہے جن کاامتحان لیا گیا ہے۔ اس سورت کانام ا س کی آیت نمبر10کے کلمہ ’’فَامْتَحِنُوْهُنَّ‘‘ سے ماخوذہے۔
سورۂ مُمْتَحِنَہْ کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں ان مشرکین کے اَحکام بیان کئے گئے جنہوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کیا اور جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ نہیں کی نیز ا س میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آنے والی مومنہ عورتوں کے ایمان کا امتحان لینے کا حکم دیاگیا ہے ۔ اس سورت میں مزیدیہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1) …اس سورت کی ابتداء میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ دوستی کرنے اور ان سے محبت رکھنے سے منع کیاگیا اور انہیں بتایا گیا کہ کفار کو جب بھی موقع ملے گا توتمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے اور یہ بھی بتایاگیا کہ قیامت کے دن کافر اولاد اور کافر رشتہ دار کوئی فائدہ نہیں دیں گے بلکہ اس دن ایمان اور نیک اعمال کام آئیں گے ۔
(2) …اس کی مثال کے طور پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے ساتھیوں کی سیرت بیان کی گئی کہ کس طرح انہوں نے اپنی مشرک قوم سے بیزاری کا اظہار کیا تاکہ مسلمان حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سیرت کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں ۔
(3) …یہودیوں اور مشرکوں سے تعلُّقات کے بارے میں اصول بیان کئے گئے اور مدینہ منورہ ہجرت کر کے پہنچنے والی مومنہ عورتوں کا امتحان لینے کا حکم دیاگیا اور ان کے بارے میں شرعی حکم بیان کیا گیا۔
(4) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔