سورۂ مُمْتَحِنَہْ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ صف کی اپنے سے ما قبل سورت’’مُمْتَحِنَہْ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مُمْتَحِنَہْ کی ابتداء میں ، وسط میں اور آخر میں کفار سے دوستی اور محبت رکھنے سے منع کیا گیا اور اس سورت میں مسلمانوں کو متحد ہونے اور دشمنوں کے سامنے ایک صف میں کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ مُمْتَحِنَہْ میں مسلمانوں اور کفار کے درمیان ملکی ،داخلی اور خارجی معاملات کے احکام بیان کئے گے اور اس سورت میں دشمنوں سے جہاد کرنے کاحکم دیاگیا اور جہاد چھوڑنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔
سورۂ صف کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ صف مکیہ ہے، جبکہ حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور جمہور مفسرین کے قول کے مطابق مدنیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الصف، ۴ / ۲۶۱)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع اور 14آیتیں ہیں ۔
’’صف ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
صف کا معنی ہے سیدھی قطار اور اس سور ت کی آیت نمبر4میں مذکور کلمہ ’’صَفًّا‘‘ کی مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ صف‘‘ رکھا گیا ہے ۔
سورۂ صف سے متعلق حدیث:
حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ہم نے اس بات پر مُذاکرہ کیا کہ کون حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جا کر یہ پوچھے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کو نسا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ابھی ہم میں سے کوئی اپنی جگہ سے اٹھا بھی نہیں تھا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہماری طرف ایک شخص بھیجا اور ا س نے ہمیں جمع کر کے ہمارے سامنے پوری سورۂ صف کی تلاوت کی۔( مسند امام احمد، حدیث عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ عنہ، ۹ / ۲۰۵، الحدیث: ۲۳۸۴۹)
سورۂ صف کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیاگیا اور مجاہدین کا عظیم ثواب بیان کیا گیا ہے ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔
(1) …اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس بیان کی گئی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیاگیا کہ وہ بات نہ کہیں جو خودکرتے نہیں ۔
(2) …یہ بتایا گیا کہ جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں ان سے اللّٰہتعالیٰ محبت فرماتا ہے۔
(3) …اللّٰہ تعالیٰ اورا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرنے اور دین میں تَفْرِقَہ بازی سے منع کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ ہے۔
(4) …مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے اور یہ دین سب دینوں پر غالب ہو گا اگرچہ مشرکوں کو ناپسند ہو۔
(5) …مسلمانوں کے سامنے اُخروی عذاب سے نجات کا راستہ بیان کیا گیا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھیں اور اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کریں ۔
(6) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے دین کامددگار بننے کا حکم دیا گیا اورا ن کے سامنے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے حواریوں کی ایک مثال بیان فرمائی گئی۔