سورۂ صف کے ساتھ مناسبت:
سورۂ جمعہ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’صف‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ صف میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا حال بیان کیاگیا اور انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو اَذِیَّتیں دیں انہیں ذکر کیا گیا اور اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاحال اور ان کی امت کی فضیلت و شرافت بیان فرمائی تاکہ دونوں امتوں میں فرق ظاہر ہو جائے۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ صف میں ذکر کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک عظیم رسول کی تشریف آوری کی بشارت دی جن کا اسمِ گرامی احمد ہوگا اور سورۂ جمعہ میں بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جن کی بشارت دی تھی وہ دو عالَم کے تاجدار اورا نبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سردار ہیں ۔
سورۂ جمعہ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ جمعہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، تفسیر سورۃ الجمعۃ، ۴ / ۲۶۴)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع اور 11 آیتیں ہیں ۔
’’جمعہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
سات دنوں میں سے ایک دن کا نام جمعہ ہے اور اس دن سورج ڈھلنے کے بعد جو نما زادا کی جاتی ہے اسے نمازِ جمعہ کہتے ہیں۔اس سورت کی آیت نمبر9میں لفظ’’اَلْجُمُعَة‘‘موجود ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کانام ’’سُوْرَۃُ الْجُمُعَہ‘‘ رکھاگیاہے ۔
سورۂ جمعہ سے متعلق2 اَحادیث:
(1) …حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔(مسلم، کتاب الجمعۃ، باب ما یقرأ فی یوم الجمعۃ، ص۴۳۵، الحدیث: ۶۴(۸۷۹))
(2) …حضرت ابو جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے،سورۂ جمعہ کی تلاوت کے ذریعے مسلمانوں کو بشارت دیتے اور (مزید نیک اعمال کرنے پر) ابھارتے تھے جبکہ سورۂ منافقون کے ذریعے منافقوں کو مایوس کرتے اور ان کی سرزَنِش فرماتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الرد علی ابی حنیفۃ، مسألۃ فی ما یقرأ فی الجمعۃ والعیدین، ۸ / ۴۲۴، الحدیث: ۲)
سورۂ جمعہ کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں نمازِ جمعہ کے اَحکام بیان فرمائے گئے ہیں ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ،
(1) …اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس بیان کی گئی اورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان فرمائے گئے ۔
(2) …یہ بتایاگیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر یہ بڑا فضل ہے کہ اُس نے اُن کی ہدایت کیلئے اپنے حبیب محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمایا۔
(3) …تورات کے احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں کی مذمت کی گئی اور یہودیوں سے کہا گیا کہ اگر وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دوست ہیں تو ذرا موت کی تمنا کریں ۔نیز یہ بتایا گیا کہ وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور یہودی جس موت سے بھاگتے ہیں وہ بہر صورت انہیں آ کر رہے گی۔
(4) …سورت کے آخر میں نمازِ جمعہ کے اَحکام بیان فرمائے گئے ہیں ۔