سورۂ جمعہ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ منافقون کی اپنے سے ماقبل سورت ’’جمعہ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جمعہ میں مسلمانوں کا ذکر کیا گیا اور اس سورت میں ان کی ضد یعنی منافقوں کاذکر کیا گیا۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جمعہ میں یہودیوں کا ذکر کیا گیا جو کہ زبان اور دل دونوں سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلاتے تھے اور سورۂ منافقون میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو زبان سے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اقرار کرتے اور دل سے اس کے منکر تھے۔
سورۂ منافقون کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ منافقون مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ المنافقین ۴ / ۲۷۰)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع اور11آیتیں ہیں ۔
’’منافقون ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کی ابتداء میں منافقوں کی صفات بیان کی گئیں اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں سے متعلق ان کا مَوقف ذکر کیا گیا،اس مناسبت سے اس سورت کو’’سورۂ منافقون ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ منافقون کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں منافقوں کے نفاق کو ظاہر کیا گیا اور ان کے بارے میں بتایا گیا کہ منافق جھوٹ بولتے اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں ۔نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ،
(1) …اس سورت کی ابتداء میں بتایاگیا کہ منافق اپنے دلی عقیدے میں ضرور جھوٹے ہیں اور اپنی جان بچانے کیلئے انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے اور زبان سے ایمان لانے اور دل سے کفر کرنے کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے وہ ایمان کی حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔
(2) …مسلمانوں کو بتایاگیا کہ منافق لوگ تمہارے دشمن ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو۔
(3) … یہ بتایا گیا کہ منافقوں کا یہ گمان باطل ہے کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمانوں اور ان کے آ قا و مولیٰ محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مدینہ منورہ سے نکال دیں گے۔
(4) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور ا س کی عبادت کرنے میں مصروف رہیں ،اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے مقابلے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کریں اور اس میں دیر نہ کریں کیونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ۔