سورۂ ملک کے ساتھ مناسبت:
سورۂ قلم کی اپنے سے ما قبل سورت’’ملک‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ ملک میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اوراپنے علم کی وسعت کے دلائل بیان فرمائے،مرنے کے بعد مخلوق کے دوبارہ زندہ ہونے کو ثابت فرمایا، مشرکین کو دنیا و آخرت کے دردناک عذاب سے ڈرایا اور انہیں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت ،موت کے بعد اٹھائے جانے اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر ایمان لانے کی ترغیب دی اور سورۂ قلم کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ نے کافروں کی طرف سے اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر لگائے گئے الزامات کا بڑے پُر جلال انداز میں جواب دیا ۔
سورۂ قلم کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ قلم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ ن، ۴ / ۲۹۳)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع اور52آیتیں ہیں ۔
’’قلم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قلم کی قَسم ارشاد فرمائی ،اس مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ قلم‘‘ رکھا گیا۔اس سورت کا ایک نام ’’سورۂ نون‘‘ بھی ہے اور یہ نام اس سورت کی پہلی آیت کی ابتدا میں مذکور حرف ’’نٓ‘‘ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
سورۂ قلم کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان اور ان کے عظیم مقام کو ظاہر فرمایا ہے۔نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ،
(1)…کافروں نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے انہیں مجنون کہا تو اللّٰہ تعالیٰ نے قلم اور اس کے لکھے ہوئے کی قَسم ذکر کر کے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کفار کے اس الزام کی نفی فرمائی،اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بے انتہاء اجر و ثواب ملنے کی بشارت دے کر تسلی دی اور ان سے فرمایا کہ بیشک تم عظمت و بزرگی والے اخلاق پر ہو،اس کے بعد مجموعی طور پر کفار کے 16اور جس کافر نے گستاخی کی اس کے 10عیب بیان کر کے اسے ذلیل و رُسوا کر دیا۔
(2)…کفارِ مکہ کے سامنے ایک باغ والوں کی مثال بیان کی گئی کہ جب انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور حقداروں کو ان کا حق نہ دینے کا عزم کیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اس باغ کو جلا کر خاکِسْتَر کر دیا ،اور انہیں بتایاگیا کہ جو اللّٰہ تعالیٰ کی حدوں سے تجاوُز کرے اور اس کے حکم کی مخالفت کرے تو اس کے لئے بھی اللّٰہ تعالیٰ کی ایسی ہی سزا ہوتی ہے، لہٰذا وہ ہوش میں آئیں اور اپنا انجام خود سوچ لیں کہ دنیا کی سزا اتنی دردناک ہے تو آخرت کی سزا کیسی ہو گی ۔
(3)…یہ بتایا گیا کہ کافروں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ مسلمان اور کافر ایک جیسے ہیں اور اس دعوے پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔
(4)…حشر کے میدان میں کفار کی ذلت و رُسوائی بیان کی گئی اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کرنے اور ہرحال میں حکم ِالٰہی کے انتظار و پیروی کرنے کی تلقین کی گئی اور اسی سلسلے میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا۔
(5)…اس سورت کے آخر میں کفار کے حسد و عناد کاذکر گیا اور یہ بتایاگیا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام جہانوں کیلئے شرف کا باعث ہیں توان کی طرف جنون کی نسبت کس طرح کی جا سکتی ہے ۔