سورۂ حاقہ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ معارج کی اپنے سے ما قبل سورت’’حاقہ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ حاقہ کی طرح اس سورت میں بھی قیامت کی ہَولناکیاں ، جنت اور جہنم کے اَحوال ،اہلِ ایمان اور کفار کا اُخروی انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ سورت گویا کہ سورۂ حاقہ کا تَتِمَّہ ہے۔
سورۂ معارِج کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ معارج مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2رکوع اور 44آیتیں ہیں ۔
’’ معارِج ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
معارج کا معنی ہے بلندیاں اورا س سورت کی تیسری آیت میں مذکور لفظ ’’اَلْمَعَارِجْ ‘‘ کی مناسبت سے ا س کا نام سورۂ معارج رکھا گیا ہے۔
سورۂ معارج کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں قیامت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے،جزا اور حساب کے بارے میں بیان کیا گیا ہے اور عذابِ جہنم کی کَیفِیَّت بتائی گئی ہے ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ،
(1)…اس سورت کی ابتداء میں بتایا گیا کہ کفارِ مکہ جس عذاب کا مذاق اُڑاتے ہیں اور اس کے جلد نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ عذاب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر واقع ہونے والا ہے اور اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ۔
(2)…حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچے والی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی۔
(3)…قیامت،جہنم اور اس کے عذاب کی ہَولناکیاں بیان کی گئیں اور کافروں کا اُخروی حال بتایاگیا۔
(4)…یہ بتایا گیا کہ عام انسان کا حال یہ ہے کہ جب اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو وہ اس پر صبر نہیں کرتا اور جب اسے مال ملتا ہے تو وہ اسے اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔
(5)…مسلمانوں کے 8وہ اوصاف بیان کئے گئے جن کی وجہ سے وہ مشرکین سے ممتاز ہیں ۔
(6)…اس سورت کے آخر میں کفارِ مکہ کی سَرزَنِش کی گئی اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ان کے سامنے کفار کا اُخروی انجام بیان کیا گیا۔