سورۂ قیامہ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ دَہر کی اپنے سے ماقبل سورت’’ قیامہ ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قیامہ میں جنت اور جہنم کے اَوصاف اِجمالی طور پر بیان کئے گئے اور سورۂ دَہر میں جہنم کے اَوصاف اور خاص طور پر جنت کے اوصاف تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قیامہ میں قیامت کے دن کافروں اور فاجروں کو پیش آنے والے دردناک اُمور بیان کئے گئے اور سورۂ دہر میں نیک مسلمانوں کو قیامت کے دن ملنے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
سورۂ دَہر کا تعارف
امام مجاہد ،حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور جمہورمفسرین کے نزدیک سورۂ دَہر مدینہ مُنَوَّرہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سورت مکہ مُکَرَّمَہ میں نازل ہوئی ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سور ت کی کچھ آیتیں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں اور کچھ آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں ۔(خازن، تفسیر سورۃ ہل اتی، ۴ / ۳۳۷)
اس سورت میں 2رکوع اور 31آیتیں ہیں ۔
لمبے زمانے کو عربی میں دہر کہتے ہیں ،نیزسورۂ دہر کاایک نام سورۂ انسان بھی ہے اور یہ دونوں نام اس کی پہلی آیت سے ماخوذ ہیں ۔
سورۂ دَہر کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون
یہ ہے کہ اس میں آخرت کے اَحوال بیان کئے گئے ہیں اور اس سورت
میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ،
(1)…اس
سورت کے شروع میں انسان کی تخلیق کی ابتدا کے بارے میں بیان کیا گیا اور
یہ بتایاگیا کہ اس کا امتحان لینے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ
نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا بنایا ہے۔
(2)… انسانوں کی دو
قِسمیں بیان کی گئیں کہ بعض انسان شکر گُزار ہیں اور بعض نا شکرے
ہیں ،شکر کرنے والوں کی جزا جنت ہے اور نا شکری کرنے والوںکی سزا جہنم
ہے۔
(3)…نیک مسلمانوں کی
جزاجنت کے اَوصاف بیان کئے گئے اور ان کے وہ اعمال بتائے گئے جس کی وجہ سے وہ اس
جزا کے مُستحق ہوئے۔
(4)…یہ بتایاگیا کہ نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قرآنِ مجید تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفّار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کرنے کی تلقین
کی گئی۔
(5)…دنیا کی فانی
نعمتوں سے محبت کرنے اور آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کو تَرک
کرنے کی مذمت اور کفر و عناد پر وعیدبیان کی گئی۔
(6) …اس سورت کے آخر
میں بتایاگیا کہ قرآنِ مجید تمام انسانوں کے لئے نصیحت ہے تو جو چاہے
اس سے نصیحت حاصل کر کے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف راہ اختیار کرے۔