سورۂ علق کے ساتھ مناسبت:
سورۂ قدر کی اپنے سے ما قبل سورت’’علق‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ علق میں اللّٰہ تعالیٰ نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے فرمایا تھا کہ آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے نام سے قرآن پڑھئے جس نے پیدا کیا اور اس سورت میں قرآنِ مجید نازل ہونے کی ابتداء کازمانہ بتایا گیا کہ اسے عظمت و شرافت والی رات لیلۃُ القدر میں نازل کیا گیا۔
سورۂ قدر کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ قدرمدنیہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مکیہ ہے۔ (خازن، تفسیر سورۃ القدر، ۴ / ۳۹۵)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع اور 5 آیتیں ہیں ۔
’’قدر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
قدر کے بہت سے معنی ہیں البتہ یہاں قدر سے عظمت و شرافت مراد ہے،اور چونکہ اس سورت میں لیلۃ القدر کی شان بیان کی گئی ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ قدر‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ قدر کے مضامین:
اس سورت میں قرآنِ مجید نازل ہونے کے ابتدائی زمانے کے بارے میں بتایا گیا اور جس رات میں قرآن مجید نازل ہوا اس کی فضیلت بیان کی گئی کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے،اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اترتے ہیں اور یہ رات صبح طلوع ہونے تک سراسر سلامتی والی ہے۔