سورۂ قدر کے ساتھ مناسبت:
سورۂ بینہ کی اپنے سے ما قبل سورت’’قدر‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قدر میں بتایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ شبِ قدر میں قرآن مجید نازل فرمایا اور اس سورت میں یہ بیان کیا گیا کہ کتابی کافریہودی اور عیسائی اور مشرک اس وقت تک اپنا دین چھوڑنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آ جائے، تو گویا کہ اس سورت میں قرآنِ مجید نازل کرنے کی علت اور وجہ بیان کی گئی ہے ۔
سورۂ بَیِّنَہ کا تعارف
مقامِ نزول:
جمہور مفسرین کے نزدیک یہ سورت مدنیہ ہے اور حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی ایک روایت یہ ہے کہ یہ سورت مکیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ البیّنۃ، ۴ / ۳۹۸)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع اور 8آیتیں ہیں ۔
’’ بَیِّنَہ ‘‘ نام رکھنے کی وجہ :
بینہ کا معنی ہے روشن اور بہت واضح دلیل،اس سورت کی پہلی آیت کے آخر میں یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ بَیِّنَہ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ بَیِّنَہ سے متعلق حدیث :
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں تمہارے سامنے سورت ’’لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا‘‘ پڑھوں ۔حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اللّٰہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہاں ۔(یہ سن کر) حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے۔( بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب ابی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ، ۲ / ۵۶۲، الحدیث: ۳۸۰۹)
سورۂ بَیِّنَہ کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں یہودیوں ،عیسائیوں اور مشرکوں کا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت سے متعلق مَوقف بیان کیا گیا ہے اور اس سورت میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ۔
(1) …یہودیوں ،عیسائیوں اور مجوسیوں کے مذہب کا باطل ہونا بیان فرمایا گیا۔
(2) … یہ بتایاگیا کہ اہل ِکتاب میں دین کے معاملے میں پھوٹ کس وقت پڑی اور تورات و انجیل میں انہیں دئیے گئے اَحکام بیان کئے گئے۔
(3) …کافروں کا انجام بیان کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہیں ۔
(4) …اس سورت کے آخر میں بتایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے تو وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ،اس کے بعد ان کی جزاء بیان کی گئی۔